Thursday, 15 July 2021

میں اپنے لفظوں میں شدت غضب کی لاؤں گی

 میں اپنے لفظوں میں شدت غضب کی لاؤں گی

نہ جانے دوں گی تجھے پیار سے مناؤں گی

ہواؤں کا بھی نہ جس پر کوئی اثر ہو گا

میں تیرے نام کا ایسا دِیا جلاؤں گی

اداسیوں کو مِری کوئی بھی نہ سمجھے گا

غموں کو ہنستے ہوئے میں گلے لگاؤں گی

شکستہ دل کو بھلا کیسے جوڑ سکتے ہیں

میں اپنے لفظوں سے جادوگری سکھاؤں گی

تُو چھوڑ جائے گا یہ وسوسہ بھی ہے دل میں

مگر یقیں ہے کہ تجھ کو میں ڈھونڈ لاؤں گی

تجھے چُرا نہ سکے گا کبھی کوئی دُوجا

میں تیرے نام پہ اپنی گِرہ لگاؤں گی

میں وہ نہیں کہ کسی کو اُجاڑ کر ہنس دوں

خسارے لے کے میں خوشیوں کو بانٹ آؤں گی

یہ جانتی ہوں مِرے بخت میں نہیں ہے وفا

رمل میں پھر بھی مقدر کو آزماؤں گی


رمل اقبال

No comments:

Post a Comment