رشتوں میں اعتبار کا عنصر نہیں رہا
دیوار و در تو رہ گئے ہیں گھر نہیں رہا
یہ آئے روز لڑنے جھگڑنے کا فیض ہے
میں تجھ سے دُور جاتے ہوئے ڈر نہیں رہا
وہ جس کا نام میں تھا وہ تو مر گیا حضور
یہ جس کو جسم کہتے ہیں ، یہ مر نہیں رہا
آشفتگی ہے، چاک لبادہ ہے، خبط ہے
کیا میرے سر کے واسطے پتھر نہیں رہا
ظالم کو انتظار ہے کہ یہ خبر ملے
کہتے تھے جس کو یونسِ خود سر، نہیں رہا
تحسین ایک عرصہ رہا سنگِ راہ، میں
لیکن کسی کے پاؤں کی ٹھوکر نہیں رہا
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment