اک نظر ڈال ذرا مجھ پہ اے جانے والے
تُو بھی اب دے گا مجھے زخم زمانے والے
میری باتوں پہ بھی تُو کاش یقیں کر لیتا
جھوٹے لوگوں کی کہی باتوں میں آنے والے
کرب ہوتا ہے نا جب لوگ بدل جاتے ہیں
دھوکہ جب دیتے ہیں خود آپ کے چاہنے والے
میں تو رشتوں میں تہِ دل سے وفا کرتی ہوں
لوگ ملتے ہی نہیں مجھ کو نبھانے والے
رو کے لکھتی ہوں میں یہ سارے فسانے دل کے
ہنس کے پڑھتے ہیں مگر سارے زمانے والے
وہ جو کہتے تھے میرا ساتھ ہمیشہ دیں گے
ہیں کہاں میرے سبھی ملنے ملانے والے
یہ علم جس پہ وفا کے خدا کا ہے سایہ
کر کرم مجھ پہ بھی کربل کو بسانے والے
میں تو شیشہ تھی رمل صاف نظر آتی تھی
سنگ برساتے رہے دیکھ کے جانے والے
رمل اقبال
No comments:
Post a Comment