یوں گھر سے نکلتے ہیں، کبھی گھر نہیں آتے
آنسو، مِری آنکھوں میں پلٹ کر نہیں آتے
جن لوگوں سے اس دل کو بہت زخم ملے ہیں
نام ان کے کبھی میرے لبوں پر نہیں آتے
دریا نہیں آتے کبھی اک بُوند سے ملنے
دریاؤں سے ملنے کو سمندر نہیں آتے
دو چار گھڑی اُڑنے کا مل جاتا ہے موقع
بے وجہ تو چینٹی کے کبھی پر نہیں آتے
جو سادھو بنے پھرتے ہیں وہ پوچھ رہے ہیں
ہم کس لیے ٭سیماؤں سے باہر نہیں آتے؟
نزدیک سے کیا دیکھ سکیں گے وہ صبا کو
اونچائی سے جو خود ہی اُتر کر نہیں آتے
صبا عزیز
٭سیما: حد
No comments:
Post a Comment