Tuesday, 6 June 2023

اس نے مجھ سے کہا کچھ سناؤ مجھے میں جھجھکتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

 اُس نے مجھ سے کہا کچھ سناؤ مجھے، میں جھجھکتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

اپنی آنکھوں کی وسعت بڑھاتے ہوئے، اُس کو تکتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

نیم خوابیدہ حالت میں لیٹے ہوئے میری آنکھوں میں اک فلم چلنے لگی

میرے کمرے میں اک شخص چلنے لگا، اور چلتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

پہلے منظر میں خوشیوں کا آنگن دِکھا، قہقہوں کی بھی آواز آتی رہی

پھر یکایک جنازے اٹھائے گئے، میں سسکتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

رات ڈھلنے لگی، ایک کھڑکی کھلی، اور پُرنم سی آواز آنے لگی

ایک شاعر گلی میں لہکنے لگا، اور لہکتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

بات کرتے ہوئے ایک موتی گرا جس نے صدیوں کے سب دکھ عیاں کر دئیے

غم چھپانے کو مَیں پھر سے ہنسنے لگا اور ہنستے ہوئے شعر پڑھنے لگا

شام ڈھلنے لگی، بنچ پر بیٹھ کر یاد کرنے لگا صبر کی آیتیں

ریل گاڑی کا ہارن سنائی دیا، دل دھڑکتے ہوئے شعر پڑھنے لگا

سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی شام میں زندگی کے مصائب سے تھک ہار کر

میں سڑک کے کنارے ٹہلنے لگا، اور ٹہلتے ہوئے شعر پڑھنے لگا


رضا حسن فاروق

No comments:

Post a Comment