Tuesday, 6 June 2023

عشق مجنوں کیا پر میں بہکا نہیں اپنے جینے کی خاطر لڑائی لڑی

 عشقِ مجنوں کِیا پر میں بہکا نہیں، اپنے جینے کی خاطر لڑائی لڑی

نہ روایت کے زیرِ اثر آیا میں، جلتے سینے کی خاطر لڑائی لڑی

پہلے منزل کی جانب میں بڑھتا رہا اور دریا دلی مجھ پہ چھائی رہی

میرے رَستے میں پھر اک غُبار آ گیا، پانی پینے کی خاطر لڑائی لڑی 

میں بغاوت کے حق میں نہیں تھا مگر، میری دھرتی پہ جب بوجھ بڑھنے لگا

اپنے حق کے لیے میں کھڑا ہو گیا، اور سفینے کی خاطر لڑائی لڑی

خاک کو آسماں سے ملاتا ہوا،۔ اک شجر کے تلے قافلہ رُک گیا

رہزنوں نے مسافر سے اس موڑ پر اک نگینے کی خاطر لڑائی لڑی

جب تلک اس مکاں میں وہ رہتی رہی، اس گلی میں حسن خون بہتا رہا

ایک قاتل نے مقتول سے اس جگہ اس کے زینے کی خاطر لڑائی لڑی


رضا حسن فاروق

No comments:

Post a Comment