Wednesday, 9 February 2022

مجھے ہر پل محبت کی نشانی یاد رہتی ہے

 مجھے ہر پل محبت کی نشانی یاد رہتی ہے

کوئی کردار بھولے بھی کہانی یاد رہتی ہے

میں اُس سے اِس لیے کوئی شکایت کر نہیں سکتی

وہ چشمِ خشک ہو جائے گی پانی، یاد رہتی ہے

بچھڑ کر تم سے اب تک میں کسی کی ہو نہیں پائی

تمہاری دل پہ تھی جو حکمرانی یاد رہتی ہے 

بہت سی تلخ باتوں کو اگر ہم بھول بھی جائیں

مگر نظروں میں آئی بدگمانی یاد رہتی ہے 

صبا جب نام ہے میرا مجھے نفرت سے کیا لینا

خزاں میں بھی مجھے صبحِ سہانی یاد رہتی ہے 


صبا عزیز

No comments:

Post a Comment