مجھے ہر پل محبت کی نشانی یاد رہتی ہے
کوئی کردار بھولے بھی کہانی یاد رہتی ہے
میں اُس سے اِس لیے کوئی شکایت کر نہیں سکتی
وہ چشمِ خشک ہو جائے گی پانی، یاد رہتی ہے
بچھڑ کر تم سے اب تک میں کسی کی ہو نہیں پائی
تمہاری دل پہ تھی جو حکمرانی یاد رہتی ہے
بہت سی تلخ باتوں کو اگر ہم بھول بھی جائیں
مگر نظروں میں آئی بدگمانی یاد رہتی ہے
صبا جب نام ہے میرا مجھے نفرت سے کیا لینا
خزاں میں بھی مجھے صبحِ سہانی یاد رہتی ہے
صبا عزیز
No comments:
Post a Comment