Friday, 21 January 2022

گل کو بوسہ نما بناتے ہوئے

 گل کو بوسہ نما بناتے ہوئے

چل نیا سلسلہ بناتے ہوئے

ایک دریا کے سامنے رہا دل

دشت میں راستہ بناتے ہوئے

آگ پتھر سے آ گئی باہر

رنگ کو خوشنما بناتے ہوئے

اس نے آنکھوں کو کر دیا آزاد

دل کو زنجیرِ پا بناتے ہوئے

شام ڈھلتی ہوئی بنائی ہے

دن گزرتا ہوا بناتے ہوئے

اشک نے آنکھ کو تسلی دی

ایک رشتہ نیا بناتے ہوئے

خود بھی بھگوان بن کے بیٹھ گیا

وہ مجھے دیوتا بناتے ہوئے

اور پُر نُور ہو گیا کامی

روشنی سے دِیا بناتے ہوئے


کامی شاہ

No comments:

Post a Comment