گل کو بوسہ نما بناتے ہوئے
چل نیا سلسلہ بناتے ہوئے
ایک دریا کے سامنے رہا دل
دشت میں راستہ بناتے ہوئے
آگ پتھر سے آ گئی باہر
رنگ کو خوشنما بناتے ہوئے
اس نے آنکھوں کو کر دیا آزاد
دل کو زنجیرِ پا بناتے ہوئے
شام ڈھلتی ہوئی بنائی ہے
دن گزرتا ہوا بناتے ہوئے
اشک نے آنکھ کو تسلی دی
ایک رشتہ نیا بناتے ہوئے
خود بھی بھگوان بن کے بیٹھ گیا
وہ مجھے دیوتا بناتے ہوئے
اور پُر نُور ہو گیا کامی
روشنی سے دِیا بناتے ہوئے
کامی شاہ
No comments:
Post a Comment