Sunday, 18 April 2021

حسرتوں سے فرار حاصل ہو

 حسرتوں سے فرار حاصل ہو

زندگی سے قرار حاصل ہو

اب خزاں سے نجات مل جائے

اب کہ ہم کو بہار حاصل ہو

دوستی کا مزہ تو تب ہے کہ

دوست جب رازدار حاصل ہو

عشق میں عاجزی تو حاصل ہے

اشک کو آبشار حاصل ہو

حُوریں جنت کی شیخ تُو لے جا

مجھ کو بس میرا یار حاصل ہو

ہو بہشت کہ یا جہنم ہو

ساقیا آب کار حاصل ہو

ہمیں حضرتِ نگاہ اُس کی

جگر کے آر پار حاصل ہو


منظور احمد الفت

No comments:

Post a Comment