حسرتوں سے فرار حاصل ہو
زندگی سے قرار حاصل ہو
اب خزاں سے نجات مل جائے
اب کہ ہم کو بہار حاصل ہو
دوستی کا مزہ تو تب ہے کہ
دوست جب رازدار حاصل ہو
عشق میں عاجزی تو حاصل ہے
اشک کو آبشار حاصل ہو
حُوریں جنت کی شیخ تُو لے جا
مجھ کو بس میرا یار حاصل ہو
ہو بہشت کہ یا جہنم ہو
ساقیا آب کار حاصل ہو
ہمیں حضرتِ نگاہ اُس کی
جگر کے آر پار حاصل ہو
منظور احمد الفت
No comments:
Post a Comment