Wednesday, 14 December 2016

گو کہ موجود و میسر سے گریزاں تھا میں

گو کہ موجود و میسر سے گریزاں تھا میں 
بے نمو عہد میں آیندہ کا امکاں تھا میں
شامِ افسوس! مِرے دل نے مِرا ساتھ دیا
شہرِ ہم خواب میں اک رات کا مہماں تھا میں
ایک جیسے در و دیوار تھے چاروں جانب 
اتنے ہم شکل مکانوں میں پریشاں تھا میں
سانس لینے سے مِرا جسم لرز جاتا تھا 
بند گلیوں کی طرح شام سے ویراں تھا میں
یک بیک آگ نے پوشاک پکڑ لی میری 
اتنے نزدیک اسے دیکھ کے حیراں تھا میں
اپنے خوابوں کی طرح اپنی کتابوں کی طرح 
اپنے دم توڑتے لفظوں سے پشیماں تھا میں

فیصل ہاشمی

No comments:

Post a Comment