دستک کی دہلیز پہ
دروازے پر دستک کا دم ٹوٹ رہا تھا
میرے لبوں کی تھکی ہوئی آواز نے پوچھا
کون ہے بھائی؟
اب بستر سے دروازے تک جاتے جاتے
ایک زمانہ لگ جاتا ہے
اور پھر کبھی کبھی تو یوں ہوتا ہے
دروازے کے دوسری جانب کوئی نہیں ہوتا
اور دستک ہوتی رہتی ہے
میں نے ایک سیانے سے بھی ذکر کیا تھا
اس نے کہا تھا
عمر کے اس حصے میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے
گلی سے موت گزرتی ہے تو
دستک ہونے لگتی ہے
خیر یہ باتیں اپنی جگہ
پر میں نے دروازہ جب کھولا
دوسری جانب، میری
ایک فنا ہوتی نیکی کا
جسد کھڑا تھا دُکھتا دُکھتا
کہنے لگا وہ
دیکھو مٹی کے اس ڈھیر کے نیچے
میرا دم گھٹتا ہے
تم تو ایک ثواب کی خاطر
اچھائی کرتے ہو
لیکن میں نے عمروں کے دوزخ کو
جھیلا ہے
چھاتی مسلتی تاریخوں کے پیروں کی
بو سونگھی ہے
سانسوں کی لکنت میں لڑھکتی
آرزوؤں کو تھاما ہے
خنزیری مجبوریوں سے
اس پیٹ کی بھوک مٹائی ہے
دستک کی دہلیز پہ اب میں سوچ رہا ہوں
اتنا بڑا ادراک بھی جب اس مٹی میں
مل جانا ہے
تو قبر نما اس گھر کے باہر دستک سے
کیا حاصل
فیصل ہاشمی
No comments:
Post a Comment