اس نے ڈالی شراب ساغر میں
گھُل گیا آفتاب ساغر میں
زیرِ لب ہی رہا سوال مرا
اور اس کا جواب ساغر میں
جب پڑا عکس اسکے چہرے کا
سامنے آ گیا ترا چہرہ
حسن تھا بے حجاب ساغر میں
موجِ مۓ جیسے رقص کرنے لگی
کون تھا بے نقاب ساغر میں
صابر دت
No comments:
Post a Comment