Wednesday, 14 December 2016

اس نے ڈالی شراب ساغر میں

اس نے ڈالی شراب ساغر میں
گھُل گیا آفتاب ساغر میں
زیرِ لب ہی رہا سوال مرا
اور اس کا جواب ساغر میں
جب پڑا عکس اسکے چہرے کا
کھِل گیا اک گلاب ساغر میں
سامنے آ گیا ترا چہرہ
حسن تھا بے حجاب ساغر میں
موجِ مۓ جیسے رقص کرنے لگی
کون تھا بے نقاب ساغر میں

صابر دت

No comments:

Post a Comment