زلف لہرا سکو، تو آ جاؤ
ابر برسا سکو، تو آ جاؤ
چاندنی ماند پڑتی جاتی ہے
اب بھی گر آ سکو تو آ جاؤ
میں نے ٹھکرا دیا ہے دنیا کو
میری پلکوں پہ خواب رکھے ہیں
ان میں گر آ سکو، تو آ جاؤ
رات کا کیا ہے بِیت جاۓ گی
تم ابھی آ سکو، تو آ جاؤ
شب کے غمگیں اداس چہرے پر
نور برسا سکو، تو آ جاؤ
صابر دت
No comments:
Post a Comment