عجب نہیں ہے جو آواز جابجا ہے مِری
یہ رفتگاں کے لیے آخری صدا ہے مری
فسردہ بام پہ رکھا ہوا دِیا ہے مِرا
لرزتے طاق میں جلتی ہوئی دعا ہے مری
میں ورد کرتے ہوئے جنگ جیت جاتا ہوں
عجیب اسم ہے اور تیغ پر لکھا ہے مری
مثالِ آبِ رواں موج میں بدن ہے تِرا
بدن پہ نقش بناتی ہوئی ہوا ہے مری
ذرا بھی دل نہیں کرتا نظر ہٹانے کو
وہ اطمینان سے کشتی میں سو رہا ہے مری
اسی طرح کے کئی پھول کھل رہے ہیں یہاں
قدیم باغ میں جس رنگ کی قبا ہے مری
فیصل ہاشمی
No comments:
Post a Comment