یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے
گزر رہی ہے تِرا انتظار کرتے ہوئے
کلی کھلی تو اسی خوش سخن کی یاد آئی
صبا بھی اب کے چلی سوگوار کرتے ہوئے
تِرے بدن کے گلستاں کی یاد آتی ہے
خود اپنی ذات کے صحرا کو پار کرتے ہوئے
یہ دل کی راہ چمکتی تھی آئینے کی طرح
گزر گیا وہ اسے بھی غبار کرتے ہوئے
خود اپنے ہاتھ کی ہیبت سے کانپ جاتا ہوں
کبھی کبھی کسی دشمن پہ وار کرتے ہوئے
آفتاب حسین
No comments:
Post a Comment