Sunday, 25 April 2021

سخن نہیں پڑھتے تصویر پہ مر جاتے ہیں

 سخن نہیں پڑھتے تصویر پہ مر جاتے ہیں

رانجھا نما کسی بھی ہیر پہ مر جاتے ہیں

اس نے منع نہیں کِیا، بس اشارہ دیا ہے

بے نوا خوابوں کی تعبیر پہ مر جاتے ہیں

ہم عشق کے اس قدر عقیدت مند ہیں کہ

کرامت دیکھے بنا ہی پیر پہ مر جاتے ہیں

چاہتوں کیلئے اتنے ترسے ہوئے ہوتے ہیں

کہ ہم تھوڑی سی توقیر پہ مر جاتے ہیں

ہم پروانے شمع کے تو دیوانے نہیں ہیں

سچ پوچھو تو ہم تنویر پہ مر جاتے ہیں

ہم جیسے مؤدب نہیں ملیں گے وسیم

ہم بجائے رہائی کےزنجیر پہ مر جاتے ہیں


وسیم ارشد

No comments:

Post a Comment