مثالِ برگِ شِکستہ ہوا کی زد پر ہے
کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے
امان ڈھونڈ رہا ہے کُھلا ہوا پانی
محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے
کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں
دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے
منائیں خیر کہو ساحلوں سے آج کی رات
سبک خرام سا دریا ہوا کی زد پر ہے
وفور رنج تمنا سے بجھتا جاتا ہے
کہ آج میرا ہی چہرہ ہوا کی زد پر ہے
فضا میں گھلنے لگیں گھنٹیوں کی آوازیں
کہیں پہ کوئی کلیسا ہوا کی زد پر ہے
لبوں پہ ڈوب رہی ہیں درود کی چیخیں
دعا کا بند دریچہ ہوا کی زد پر ہے
مٹی مٹی نظر آتی ہیں آیتیں یا رب
عقیدتوں کا صحیفہ ہوا کی زد پر ہے
احمد عظیم صدیقی
No comments:
Post a Comment