Wednesday, 2 March 2022

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا

یہی تو دکھ ہے کہ شیشے میں بال کیوں آیا

نئی کرن سے ابھی آشنا ہوئی تھی زمیں

جواں تھا مہر یہ اس پر زوال کیوں آیا

جب ایک برگ نہ اشجار آرزو پہ رہا

تو مست موسم باد شمال کیوں آیا

ہر آرزو ہوئی کیوں اس کی بزم میں گھائل

ہر ایک خواب وہاں سے نڈھال کیوں آیا

اگر نہیں ہے تجھے رنج بے وفائی کا

تو تیرے لہجے میں اتنا ملال کیوں آیا


احمد عظیم صدیقی

No comments:

Post a Comment