ہے میرا شوق نہیں حادثہ محبت کی
میں بارہا ہوں مِرا بارہا محبت کی
یہ حوصلہ ہے مِرا بے وفائی مت کہنا
میں اس کے بعد بھی زندہ رہا، محبت کی
زمانہ جرم کی تفصیل پوچھنے آیا
میں سر جھکا کے یہ کہتا رہا، محبت کی
ادھر تو کام بھی باضابطہ نہیں ہوتے
ادھر وہ ہیں کہ ہے باضابطہ محبت کی
جو اپنی ذات کی تکمیل کرنا چاہتا تھا
وہ کہہ رہا ہے کہ بس بے وجہ محبت کی
میں اپنے طور پہ سنت تِری بجا لایا
کہ میں نے تیری طرح کِبریا محبت کی
سناں کی نوک پہ سر سے ہے تیرا نام لکھا
ہے کس نے تجھ سے خدا اس طرح محبت کی
بنا رہا ہوں وسیلے میں اپنی بخشش کے
عمل کا کھیل ہے کیا اور کیا محبت کی
میں بارگاہِ خدا میں نماز لے کے گیا
خدا نے صرف یہ پوچھا بتا محبت کی
فناء بقاء سے یہ کہتی تھی ہو بقاء حاصل
فناء سے پوچھ رہی تھی بقا، محبت کی
نہ مجھ سے الجھو اسی سے یہ ماجرا پوچھو
وہ جس نے کُن سے بھی پہلے کہا محبت کی
مِرا ضمیر ہے کاظم ولی محبت کا
مِرے خمیر سے آئی صدا محبت کی
کاظم حسین کاظم
No comments:
Post a Comment