سڑکیں وسیع جب ہوئیں فٹ پاتھ توڑ کر
کچھ بے گھروں کو جانا پڑا شہر چھوڑ کر
جب میں نے یہ سنا کہ معافی کی رات ہے
بیٹھا رہا میں کانپتے ہاتھوں کو جوڑ کر
اس شہر کے امیر کا خانہ خراب ہو
مفلس جہاں زکوٰۃ لے تالوں کو توڑ کر
پھر یاد آ گئیں مجھے کاغذ کی کشتیاں
پھر رو پڑا میں وقت کے دریا کو موڑ کر
کل پھر مجھے بلا لیا بابا کی قبر نے
آنکھوں کی پیاس پھر بجھی آنکھیں نچوڑ کر
کل شام پھر عطا ہوئی واصف مجھے غزل
کل پھر میں ٹوٹتا رہا الفاظ جوڑ کر
جبار واصف
No comments:
Post a Comment