Tuesday, 5 January 2021

سڑکیں وسیع جب ہوئیں فٹ پاتھ توڑ کر

 سڑکیں وسیع جب ہوئیں فٹ پاتھ توڑ کر

کچھ بے گھروں کو جانا پڑا شہر چھوڑ کر

جب میں نے یہ سنا کہ معافی کی رات ہے

بیٹھا رہا میں کانپتے ہاتھوں کو جوڑ کر

اس شہر کے امیر کا خانہ خراب ہو

مفلس جہاں زکوٰۃ لے تالوں کو توڑ کر

پھر یاد آ گئیں مجھے کاغذ کی کشتیاں

پھر رو پڑا میں وقت کے دریا کو موڑ کر

کل پھر مجھے بلا لیا بابا کی قبر نے

آنکھوں کی پیاس پھر بجھی آنکھیں نچوڑ کر

کل شام پھر عطا ہوئی واصف مجھے غزل

کل پھر میں ٹوٹتا رہا الفاظ جوڑ کر


جبار واصف

No comments:

Post a Comment