Tuesday, 23 November 2021

بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

 بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

بدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہا

ڈھلی نہ شام الم جب تلک سحر نہ ہوئی

بجھے چراغ کی لو سے دھواں نکلتا رہا

ملی نہ منزل مقصود اس لیے بھی مجھے

میں ہر قدم پہ نیا راستہ بدلتا رہا

جہاں بھی آنکھ چرائی سفر میں سورج نے

کوئی ستارہ مِرے ساتھ ساتھ چلتا رہا

بس ایک عمر گنوا کر قبولیت کی نبیل

تمام عمر میں ہاتھوں کو اپنے ملتا رہا


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment