Sunday, 23 May 2021

یہ گلستاں یہ چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو

 یہ گلستاں یہ چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو

تم بھی کیا سرو و سمن چھوڑ کے جا سکتے ہو

مجھ کو معلوم ہے اے شمعیں بُجھانے والو

تم اُجالے کی کرن چھوڑ کے جا سکتے ہو

تم جو چاہو تو سبھی چھوڑ کے سپنے میرے

مجھ کو خوابوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو

چھوڑ سکتے ہو دمِ مرگ تو اے دوست مِرے

چھلنی چھلنی ہے بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو

اے مِری ڈھلتی ہوئی عمر کے مہتاب بتا

تم کہاں چرخِ کہن چھوڑ کے جا سکتے ہو

توڑ سکتے ہو حقائق سے تعلق اپنا

دل لگی دل کی لگن چھوڑ کے جا سکتے ہو

شدّتِ حبس نئی چیز نہیں میرے لیے

میرے سانسوں میں گُھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو

عشق میں خار بھی پھُولوں کا مزا دیتے ہیں

میری آنکھوں میں چُبھن چھوڑ کے جا سکتے ہو

یہ کوئی ڈھلتی، سرکتی ہوئی تہذیب نہیں

تم کہاں اپنا بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو

ہم تو ہیں برف کے مانند زمانے میں نبیل

تم محبت کی جلن چھوڑ کے جا سکتے ہو 


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment