صلح میں کیسا استخارہ جی
امن تو دین ہے ہمارا جی
تُو نے مانگی تو میں نے رائے دی
آگے اے شخص ! جو تمہارا جی
وہ کسی بات پر پریشاں ہیں
اور نہیں لگ رہا ہمارا جی
بے ضرر نفع بخش لوگوں سے
کوئی کرتا ہے یوں کنارہ جی
ایک ہی بار ہے یہ عمرِ رواں
بن پڑے جس طرح بھی یارا، جی
موت آنے میں دیر کر دیتی
ہم نے بروقت خود کو مارا جی
آپ بھی وقت پر نہ آئے کیوں
ہم کو تھا آپ کا سہارا جی
ہجر میں زندگی قیامت تھی
جیسے تیسے کیا گزارا جی
آپ کا لہجہ عامیانہ ہے
شعر کہیے کوئی کرارا جی
ہم کو پُرسہ عطا ہو شہزادی
ہم سے عاشق نہیں دوبارہ جی
چار سُو اس کا ہے شہود مگر
حسبِ توفیق ہے نظارہ جی
جو بھی اُس روشنی کے ساتھ چلا
خاک سے ہو گیا ستارہ جی
دل کی آنکھوں سےدیکھتا کوئی نئیں
حُسن ہے ورنہ آشکارا جی
ایسی لڑکی کو تتلی مت کہیے
خود ہے وہ اپنا استعارہ جی
مذہبِ عشق پر یقین نہیں
اس کا تو کچھ نہیں ہے چارہ جی
ہاں تو کیا عشق پھر سے فرما لیں
ہاں جی منظور ہے خسارہ جی
مفلسی ننگا ناچ سکتی ہے
سیٹھ جی جب کریں اشارہ جی
ختم شد اختیارِ کوزہ گری
شکل میں ڈھل چکا ہے گارا جی
عشق چشمے سے پانی بھرتی جا
اس کا پانی نہیں ہے کھارا جی
فارہہ! جون مر گیا یعنی
ایلیا آپ کا وہ پیارا جی
اس نے آنا تھا دس بجے کاشر
ہو گئے اب تو پورے بارہ جی
شوزیب کاشر
No comments:
Post a Comment