عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
روز بازار سے لاتا ہوں نئے نام کے زخم
اور پھر گنتا ہوں ہر شب دل ناکام کے زخم
مجھ غزل کار کے کیسے میں ہے ہر رنگ کا دکھ
آج پھر میلے سے لایا ہوں بڑے کام کے زخم
پیلے پھولوں سے مزین ہے املتاس کا پیڑ
جیسے پهیلے ہوں کسی عاشق ناکام کے زخم
توڑ لایا ہوں ترے واسطے ہر شہر کا پھول
اے گل اندام! کہاں ہیں مرے انعام کے زخم
کربلا! بهول تو جاؤں میں ترے سارے دکھ
مگر اس شہر بد آہنگ کے، وه شام کے زخم
تیری صغرا کو دکهاؤں کہ سکینہ کو دکھاؤں
شاه بانو! میں ترے اصغر گلفام کے زخم
ہاۓ مولا! وه ترا پیاروں کی لاشیں ڈهونا
ہاۓ زینب! تری جلتی ہوئی اس شام کے زخم
بھاگتے بچوں کے دامن سے لپٹتے شعلے
اور خیموں میں وه بڑھتے ہوئے کہرام کے زخم
پهر وہی ہم ہیں ، وہی عالم رسوائی ہے
پھر ہیں مائل بہ نمائش دل بدنام کے زخم
کتنا خوش بخت ہوں سب پهول مرے اس کو ملے
اور مرے حصے میں آئے مرے ہمنام کے زخم
زخم سب بھر گئے جتنے بھی تھے رفتہ رفتہ
بھول پائے نہ ترے شہر گل اندام کے زخم
جب کڑے دکھ کی کثافت سے جھکا جاتا تھا
چھان کر رکھ لیے اس دل نے ان ایام کے زخم
لوٹ کر آئے ہیں اس دشت بلا سے ہم لوگ
ہم سے جب چاہو تو لے جاؤ ہر اک دام کے زخم
شجاعت علی راہی
No comments:
Post a Comment