Saturday, 22 May 2021

روز بازار سے لاتا ہوں نئے نام کے زخم

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 روز بازار سے لاتا ہوں نئے نام کے زخم

اور پھر گنتا ہوں ہر شب دل ناکام کے زخم

مجھ غزل کار کے کیسے میں ہے ہر رنگ کا دکھ

آج پھر میلے سے لایا ہوں بڑے کام کے زخم

پیلے پھولوں سے مزین ہے املتاس کا پیڑ

جیسے پهیلے ہوں کسی عاشق ناکام کے زخم

توڑ لایا ہوں ترے واسطے ہر شہر کا پھول

اے گل اندام! کہاں ہیں مرے انعام کے زخم

کربلا! بهول تو جاؤں میں ترے سارے دکھ

مگر اس شہر بد آہنگ کے، وه شام کے زخم

تیری صغرا کو دکهاؤں کہ سکینہ کو دکھاؤں

شاه بانو! میں ترے اصغر گلفام کے زخم

ہاۓ مولا! وه ترا پیاروں کی لاشیں ڈهونا

ہاۓ زینب! تری جلتی ہوئی اس شام کے زخم

بھاگتے بچوں کے دامن سے لپٹتے شعلے

اور خیموں میں وه بڑھتے ہوئے کہرام کے زخم

پهر وہی ہم ہیں ، وہی عالم رسوائی ہے

پھر ہیں مائل بہ نمائش دل بدنام کے زخم

کتنا خوش بخت ہوں سب پهول مرے اس کو ملے

اور مرے حصے میں آئے مرے ہمنام کے زخم

زخم سب بھر گئے جتنے بھی تھے رفتہ رفتہ

بھول پائے نہ ترے شہر گل اندام کے زخم

جب کڑے دکھ کی کثافت سے جھکا جاتا تھا

چھان کر رکھ لیے اس دل نے ان ایام کے زخم

لوٹ کر آئے ہیں اس دشت بلا سے ہم لوگ

ہم سے جب چاہو تو لے جاؤ ہر اک دام کے زخم


شجاعت علی راہی

No comments:

Post a Comment