تم اسی دشت کے مسافر ہو، اب بھلا تم کو کیا بتائیں ہم
تم کو تو زعمِ رہبری بھی ہے، راستہ کیا تمہیں سجھائیں ہم
اب نہیں اور حوصلہ ہم میں، ہم کہ ہتھیار پھینک بیٹھے ہیں
بات بے بات روٹھ جاتے ہو، بات بے بات کیوں منائیں ہم
اب بھلا یہ بھی کوئی منطق ہے، اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی
ایک دنیا کو یاد رکھیں ہم، اور فقط تم کو بھول جائیں ہم
صبر کا سارا بار ہم پر ہے، جبر کی حد بھی ہوتی ہے کوئی
بارہا ہم کو آزما چکے تم، آؤ، اب تم کو آزمائیں ہم
ہم نے یہ کب کہا کہ جانِ من! کسی اچھی جگہ سے آئے ہو
ان کی محفل سے آ کے روٹھ گئے، اب بھلا کیوں تمہیں منائیں ہم
شجاعت علی راہی
سپاس گزارم!
ReplyDeleteمحترم راہی صاحب، آپ کو اپنے بلاگ پر تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔
Delete