Saturday, 19 February 2022

دل پہ پڑتا ہے کہ آنکھوں پہ اثر پڑتا ہے

 دل پہ پڑتا ہے کہ آنکھوں پہ اثر پڑتا ہے

دیکھیۓ زخم، جُدائی کا کدھر پڑتا ہے

اُس طرف میرے لیے پہرے بِٹھائے گئے ہیں

جس طرف اُس کی گلی پڑتی ہے، گھر پڑتا ہے

جب بھی اُٹھتی ہے مِری آنکھ اُجالوں کی طرف

اِک اندھیرا سا نظر زیرِ سحر پڑتا ہے

شاعری اور بھی ہو سکتی ہے تازہ یارو

اِس میں غالب کا مگر دستِ ہنر پڑتا ہے

ہو بھی سکتا ہے کبھی موم وہ پتھر زادہ

دل کبھی اور کبھی پاؤں جگر پڑتا ہے

جب بہاروں کی تمنّا میں نکلتا ہوں کبھی

پھول شاخوں سے اُسی وقت بکھر پڑتا ہے

اِک خلش سی مجھے جاں بر نہیں ہونے دیتی

ایک سودا سا ہمیشہ مِرے سر پڑتا ہے

کب کوئی لمحہ اُترتا ہے ضیا بار اِدھر

کب مِرے شہر میں ہنگامِ سحر پڑتا ہے

کئی فانوس سے جلتے ہیں مِری راہوں میں

کیا مِری راہ میں بھی شمس و قمر پڑتا ہے

گھونسلے اپنے بناتے ہیں پرندے اُن پر

جن درختوں میں محبت کا اثر پڑتا ہے

جمع کرتا ہوں میں بکھرے ہوئے ریزے دل کے

ہاتھ ہٹتا ہے تو ہر ذرّہ بکھر پڑتا ہے

زندگی دستکیں دیتی ہوئی گزری ہے نبیل

صحن کُھلتا ہے نہ دیوار میں در پڑتا ہے


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment