کان سنتے ہیں وہ اک نغمۂ بے ساز کبھی
میں جسے کہہ نہ سکوں آپ کی آواز کبھی
کتنے نغمے ہیں جو پردوں میں چھپا رکھے ہیں
آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دل ناساز کبھی
ایک عالم ہے کہ دیوانہ بنا پھرتا ہے
اٹھ گئی تھی وہ نگاہِ غلط انداز کبھی
حسن وہ ایک حقیقت کہ نہاں ہے اب تک
عشق وہ راز جو رہتا ہی نہیں راز کبھی
تنگ آ جائے گی خود اپنی چلن سے دنیا
تجھ سے سیکھے گا زمانہ تیرے انداز کبھی
میں نے بھی دشتِ ملامت میں گدائی کی ہے
ہم بھی تھے اہم محبت میں سرافراز کبھی
سامنے تیرے کریں ہم بھی خِرد کی باتیں
تجھ کو دکھلائیں تیرے عشق کا اعجاز کبھی
آج افسانۂ بے بال و پری ہی سن لو
پھر سنائیں گے تمہیں قصۂ پرواز کبھی
زکی کیفی
ذکی کیفی
No comments:
Post a Comment