عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے خود کھڑا ہوں روضۂ اطہر کے سامنے
ذرہ ہے آفتابِ منور کے سامنے
تھا میری تشنگی کو قیامت کا سامنا
اب خواب ہے یہ ساقئ کوثر کے سامنے
دل میں جمے ہوئے تھے بہت منظرِ جمال
حیراں ہے آنکھ، عالمِ انوار دیکھ کر
اک تشنہ لب کھڑا ہے سمندر کے سامنے
ہوں شرمسار نامۂ اعمال دیکھ کر
کس طرح جاؤں شافعِ محشر کے سامنے
زکی کیفی
ذکی کیفی
No comments:
Post a Comment