Saturday, 24 December 2016

بے خود کھڑا ہوں روضہ اطہر کے سامنے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

بے خود کھڑا ہوں روضۂ اطہر کے سامنے 
ذرہ ہے آفتابِ منور کے سامنے 
تھا میری تشنگی کو قیامت کا سامنا 
اب خواب ہے یہ ساقئ کوثر کے سامنے
دل میں جمے ہوئے تھے بہت منظرِ جمال 
دھندلا گئے ہیں یہ گنبدِ اخضر کے سامنے
حیراں ہے آنکھ، عالمِ انوار دیکھ کر
اک تشنہ لب کھڑا ہے سمندر کے سامنے
ہوں شرمسار نامۂ اعمال دیکھ کر
کس طرح جاؤں شافعِ محشر کے سامنے

زکی کیفی
ذکی کیفی

No comments:

Post a Comment