دل کو جس وقت بھی دیکھا اسے پایا تنہا
زندگی کیسے کٹے گی یہ خدایا! تنہا
دشتِ پُرخار میں ساتھ اہلِ سفر نے چھوڑا
رہ گیا ساتھ مِرے بس مِرا سایا تنہا
یوں تو ہر سمت بپا سینکڑوں ہنگامے تھے
پھر بھی جس شخص کو دیکھا اسے پایا تنہا
جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے جگر شق ہو جائیں
ہم نے اس بارِ امانت کو اٹھایا تنہا
تیرے جلووں نے نگاہوں سے چُھپا دی ہر شے
تُو بھری بزم میں ہم کو نظر آیا تنہا
زکی کیفی
ذکی کیفی
No comments:
Post a Comment