زرا سا مسکرانے میں
غموں کو بھول جانے میں
اندھیرے سرد کمرے میں
بجھے دِیے جلانے میں
بھلا جاتا ہے کیا تیرا
کوئی نغمہ محبت کا
پھر سے گنگنانے میں
تو پھر دیر کرنا کیوں
دبی آہوں کو بھرنا کیوں
زرا سا مسکرا اب تو
غموں کو بھول جا اب تو
اندھیرے سرد کمرے میں
بجھے دیے جلا اب تو
بھلا جاتا ہے کیا تیرا
کوئی نغمہ محبت کا
حقیقت یا فسانے میں
کسی سپنے سہانے میں
کوئی دیپک کوئی جوتی
جلا کے آشیانے میں
کوئی ساغر نشیلا سا
لبوں کے پاس لانے میں
بھلا جاتا ہے کیا تیرا
زرا سا جھوم جانے میں
تو پھر اب دیر کرنا کیوں
دبی آہوں کو بھرنا کیوں
کوئی سپنا سجا اب تو
کوئی ساغر نشیلا سا
لبوں کے پاس لا اب تو
بھلا جاتا ہے کیا تیرا
ذرا سا جھوم جا اب تو
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment