سُندرتم
تم
میری باتوں میں بات کا وہ حصہ ہو
جو لبوں کی گرفت سے رہائی پانے سے قبل
میرے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ بکھیر دیا کرتا ہے
رُوحم
ایک تم دوسرا تمہارا خیال
پہلے لبوں کو مُسکاتا ہے
پھر آنکھوں میں جگنو بھر کر
میرے تخیل کے آسمان پر
تمہیں میرا چاند بنا کر جھلملا دیتا ہے
کیا
تم وہاں مجھے یاد کر رہے ہو؟
یہاں تم مجھے یاد آ رہے ہو
من میتم
میں اگر یہاں تمہیں پکاروں
تو کیا تم وہاں مجھے سن سکو گے
میں کہنا چاہتی ہوں
انت من ممتلكاتی و أنا بنت انانيۃ
تم میری ملکیت ہو اور
میں بڑی خود غرض لڑکی ہوں
اور
نعم أعشقہ وكأنہ أخر رجل ولد تحت ہذه السماوات السبع
ہاں میں تم سے عشق کرتی ہوں
گویا کہ تم آخری ہی شخص ہو
جو ساتوں آسمانوں کے نیچے
میرے لیے پیدا کیے گئے ہو
قَلبُ الاروح
كل دقۃ قلب فينی لك قصيدة
میرے دل کی ہر دھڑکن
تمہارے لیے غزل لکھتی ہے
الحب حبیبی
ہوا کے آوارہ جھونکے تمہاری آمد کی افواہ
موتیے کی خوشبو کی مانند میرے اطراف پھیلا کر
میرے ساتھ شرارت کرنے لگے ہیں
کیا تم میرے لیے ہوا کے کان کھینچ لو گے
بدلے میں انعام کی صورت میں
تم سے ملنے کے لمحے تمہیں بتاؤں گی کہ
اب
مجھے تمہارے سنگ ہوا کو منہ چڑانا ہے
چاند کے پار جا کر قوس قزح پر جھولا لینا ہے
ساون میں بھیگنا ہے
پرندوں کو دانہ ڈالنا ہے
پنچھی آزاد کرنے ہیں
موتیے کی خوشبو کو مُٹھی میں بھر کر
تمہاری صورت کے مقابل لا کر
پھونک سے ساری خوشبو کو تم پر لُٹانا ہے
ننگے پاؤں ریت پر تمہارے ساتھ چلنا ہے
تمہارے ساتھ مل کر
ہمارا ایک چھوٹا مگر مضبوط گھروندہ بنانا ہے
تم آؤ
تو ہمارے موسموں کی دھوپ ساتھ لانا
مجھے میرے سارے سرد پڑ چکے جذبات کو
تمہارے ساتھ کی لو دے کر پگھلانا ہے
تم آؤ
تو اپنے آسمان کا سب سے روشن ستارہ
میرے لیے قید کر لانا اور
گھٹنوں کے بل جھک کر مجھے پیش کرنا
اس پل تم دیکھو گے
تمہارے آسمان کا روشن ستارہ
میرے آسمان کے روشن ستارے کے برابر جُڑ کر
تمہاری، میری کہانی کو ہمارگی کی سند سے نواز کر
کہانی کو مکمل کر دے گا
تم دیکھو گے اس پل میں بھیگی آنکھوں سے
تمہارے لیے مسکرا رہی ہوں گی
رُوحِ محبوبی
مجھے تمہارا ساتھ میرے ساتھ بھی میرے لیے چاہیے ہے
اور میرے بعد بھی میرے لیے ہی چاہیے ہے
تم ملو
کہ اب راستوں کی ویرانی آنکھ دیکھ نہیں پاتی
ملو
کہ اب دل کی سسکی سماعت سے سنی نہیں جاتی
ملو
کہ اب کاملیت کی پکار التجا کی صورت
روح کے ایوانوں میں سر پٹخنے لگی ہے
ملو
کہ اب جان دم توڑنے کو لبوں کنارے آن پہنچی ہے
ملو
کہ اب۔۔۔۔
فرح طاہر
No comments:
Post a Comment