عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
کبھی جو اس میں رسول کا نقشِ پا ملا ہے
ہمارے دل کو مقامِ غارِ حِرا ملا ہے
عجیب سر ہے کہ عرش تک سرفراز ٹھہرا
عجیب در ہے کہ اس پر آ کر خدا ملا ہے
میں تیری مدحت کو کس بلندی حرف پر سوچوں
تُوﷺ انبیاء کے ہجوم میں بھی جدا ملا ہے
نہ پوچھ تجھ پر سلام کہنے میں کیا کشش تھی
کہیں خدائی، کہیں خدا ہمنوا ملا ہے
میں تیرے دامن کا سایہ اوڑھے جو شب کو نکلا
تو روشنی سے اٹا ہوا راستہ ملا ہے
دل شکستہ سے عرش تک ہے تیری رسائی
کہاں سے چل کر کہاں تیرا سلسلہ ملا ہے
عطا ہو بخشش وگرنہ دنیا یہ پوچھی ہے
کہ بول پیاسے تجھے سمندر سے کیا ملا ہے
میری نگاہوں میں منصب تاج و تخت کہاں ہیں
کہ فقر تیرے کرم سے بے انتہا ملا ہے
یہ ناز ہے امتی ہوں میں اس نبیﷺ کا محسن
جسے نواسہ حسینؑ سا لاڈلا ملا ہے
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment