عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
کُھلی ہیں شہرِ مدینہ سے وُسعتیں کیسی
ہوئی ہیں میری نظر پر عنائتیں کیسی
گداگرو! وہ چُھپے رازِ دل کے جانتے ہیں
حضورِ شافعِﷺ محشر وضاحتیں کیسی
طُفیلِ مدحتِ آقاﷺ نہ پوچھیۓ مجھ سے
مِرے سُخن نے سمیٹی ہیں شہرتیں کیسی
ملے گا اذنِ حضوری تو کھل اُٹھے گی حیات
اس اک خیال نے بخشی ہیں راحتیں کیسی
دیا ہے آپﷺ کے دستِ عطا نے جتنا حضورؐ
کسی بھی شاہِ جہاں کی عنائتیں کیسی
نگاہِ لُطفِ محمدﷺ ہو جس پہ، اُس کے لیے
حسابِ حشر ہے کیسا، قیامتیں کیسی
اُتر رہے ہیں مِری آنکھ میں سماں کیسے
اُبھر رہی ہیں مِرے دل میں آہٹیں کیسی
طوافِ نقشِ کفِ پائے مصطفیٰﷺکا ہے فیض
یہ شش جہات میں ورنہ ہیں رفعتیں کیسی
عجب ہے مجھ سا خطا کار شہرِ نُور میں ہے
ہیں اس سے بڑھ کے جہاں میں فضیلتیں کیسی
مقامِ تحتُ السریٰ سے پرے ہے عرشِ عُلیٰ
اگر ہوں آپﷺ سفر میں تو ساعتیں کیسی
ہے دل مدینے میں لاہور میں ہے جسم مِرا
لگن کے فاصلے کیسے مسافتیں کیسی
اگر میں راہِ مدینہ کی خاک بن جاؤں
لگن کے فاصلے کیسے مسافتیں کیسی
جنابِ حضرتِ بُوذرؓ کی پیروی کے طُفیل
عطا ہوئی ہیں جہاں کو سخاوتیں کیسی
نبیﷺ کے دستِ مبارک پہ جب پڑھا کلمہ
تھیں پتھروں کی زباں پر حلاوتیں کیسی
اگر ہے رُوح میں پاکیزگیِ ذکرِ نبیﷺ
تھکان جسم میں کیسی کثافتیں کیسی
وہی نبیؐ کی جو دعوت ہے ذُوالعشیرہ کی
جہاں میں اُس کے مقابل ضیافتیں کیسی
حرم میں ضعفِ بدن تھا مِری توانائی
میں جُھک کے چلتا رہا ہوں نقاہتیں کیسی
پلٹ کے آئے گا سُورج، بتائے گا یہ ہمیں
مِرے نصیب میں آئیں سعادتیں کیسی
نگاہِ لُطفِ محمدﷺ سے پیشتر زاہد
رہی ہیں میرے تعاقب میں آفتیں کیسی
زاہد شمسی
No comments:
Post a Comment