Tuesday, 9 August 2022

یاد زینب کو جو عباس کے بازو آئے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین و شہدائے کربلا


یاد زینبؑ کو جو عباسؑ کے بازو آئے

دیر تک آنکھ میں بے ساختہ آنسو آئے

قبر اصغرؑ پہ گھڑی بھر کو چراغاں تو ہوا

کربلا سے جو بھٹکتے ہوئے جگنو آئے

مٹ گئی یاد سے تقدیر کے ماتھے کی شکن

ذہن میں جب علی اکبرؑ تیرے گیسو آئے

بڑھ کے لہروں نے قدم چوم لیے بچوں کے

چاند مسلمؑ کے جو کوفہ میں لبِ جُو آئے

کیوں نہ چومیں انہیں جنت کی ہوائیں مولا

ہونٹ میرے تیری دہلیز کو جب چُھو آئے

ہم چھپا کر اسے رکھتے ہیں کفن میں محسن

خونِ شبیرؑ کی جس خاک سے خوشبو آئے


محسن نقوی

No comments:

Post a Comment