عارفانہ کلام نعتیہ کلام
قُدسیوں کے پرے اترتے تھے
آپﷺ جس راہ سے گزرتے تھے
کر کے دیدارِ مصطفٰیﷺ کی سبیل
لوگ آنکھوں میں حُسن بھرتے تھے
کیا بہشتی نگر مدینہ ہے
جس کی گلیوں میں آپؐ چلتے تھے
بیٹھ کر فرش پر مِرے آقاﷺ
کائناتوں پہ راج کرتے تھے
آنکھ بھر دیکھتے جسے بھی آپؐ
اس کی نسلوں کے دن سنورتے تھے
آپﷺ کی روشنی کے جلووں سے
سب اندھیروں کے جسم جلتے تھے
چشمِ بینا ہی دیکھ سکتی تھی
چشمے جو نور کے اُبلتے تھے
آپؐ کے تذکرے کی برکت ہے
لفظ کب شاعری میں ڈھلتے تھے
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment