عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یاد آئی ہیں اپنی خطائیں جب خدا کا خیال آ گیا ہے
میرے بے چین دل کو وہیں پر مصطفٰیؐ کا خیال آ گیا ہے
آیتیں آیتوں سے ملا کر انﷺ کی یکجا ثنا کر رہا ہوں
بات رخسار کی آ گئی ہے، والضحیٰ کا خیال آ گیا ہے
یوں تو مریمؑ بھی ہیں ہاجرہؑ بھی نیک خاتون ہیں آسیہؑ بھی
بات جب آ گئی ہے حیا کی،۔ فاطمہؑ کا خیال آ گیا ہے
ظلم کا جبر کا سلسلہ تھا اک طرف صبر کا سلسلہ تھا
بات جب حق و باطل کی آئی، کربلا کا خیال آ گیا ہے
راہی بستوی
No comments:
Post a Comment