Monday, 15 August 2022

یاد آئی ہیں اپنی خطائیں جب خدا کا خیال آ گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یاد آئی ہیں اپنی خطائیں جب خدا کا خیال آ گیا ہے

میرے بے چین دل کو وہیں پر مصطفٰیؐ کا خیال آ گیا ہے

آیتیں آیتوں سے ملا کر انﷺ کی یکجا ثنا کر رہا ہوں

بات رخسار کی آ گئی ہے، والضحیٰ کا خیال آ گیا ہے

یوں تو مریمؑ بھی ہیں ہاجرہؑ بھی نیک خاتون ہیں آسیہؑ بھی

بات جب آ گئی ہے حیا کی،۔ فاطمہؑ کا خیال آ گیا ہے

ظلم کا جبر کا سلسلہ تھا اک طرف صبر کا سلسلہ تھا

بات جب حق و باطل کی آئی، کربلا کا خیال آ گیا ہے


راہی بستوی

No comments:

Post a Comment