Monday, 15 August 2022

آمد سے ان کی ہو چلے لیل و نہار سبز

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آمد سے انﷺ کی ہو چلے لیل و نہار سبز

پھر جو فلک نے فرش پہ دیکھی بہار سبز

عالم تمام باغ ہوا ایک رنگ سے

صحرا نے جوں ہی رنگ کِیا اختیار سبز

باغ بہشت میں ہیں خراماں حسنؑ، حسینؑ

ہے غلغلہ کہ آئے ہیں دو شہہ سوار سبز

دیکھوں اب آئینے میں تو سبزہ ہے چار سُو

کل رات دل پہ پڑتی رہی تھی پھوار سبز

پڑھ کر درود جب میں نکلتا ہوں کام پر

ہوتا ہے جو خزاں میں مِرا روزگار سبز

رنگوں کے اختلاف میں اس کی نشانیاں

اس کی نشانیوں میں مجھے اعتبار سبز

میری دعا تو نعت ہے سرکارﷺ آپؐ کی

ٹانکے سخن میں پھول ہے پرودگار سبز


کامران نفیس

No comments:

Post a Comment