عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تُو کس لیے ہے پریشان، یار، لاتحزن
خدا نے باندھ رکھا ہے حصار، لاتحزن
خدائے امن تجھے امن کیوں عطا نہ کرے
تُو ہے نبیﷺ کے لیے بے قرار، لاتحزن
صحیفہ اور سکینہ بہم اترتے ہیں
پکار اٹھا وہ ہجرت کا غار، لاتحزن
ہم ایک تیسری قوت کے پاس ہیں محفوظ
مِرے خلیل! مِرے جاں نثار!، لاتحزن
تِرا گماں ہے یہاں غار میں ہیں دو ہی رفیق
ہے ایک تیسرا پروردگار، لاتحزن
حصار باندھ کے کہنے لگا خدا اس کو
مرے نبیؐ کا ہے تو جاں سپار لاتحزن
یہ باؤلے تِری صحبت کو کاٹ سکتے نہیں
تُو حشر تک ہے محمدﷺ کا یار لاتحزن
نادر صدیقی
No comments:
Post a Comment