Sunday, 14 August 2022

جینے کے سرزمیں پہ وسائل نہیں رہے

 جینے کے سرزمیں پہ وسائل نہیں رہے 

یہ کون کہہ رہا ہے؟ مسائل نہیں رہے 

تہذیب مر چکی ہے،۔ تمدن ہے لاپتہ

اب سانس گُھٹ رہا ہے، سسکنے لگی ہوا

محفوظ بیٹیوں کی بھی عزت نہیں رہی 

دیکھی ہے آسماں نے یہاں لاش چیختی

قانون کے شکنجے میں پھنستا غریب ہے 

یہ فلسفہ نرالا ہے،۔ منطق عجیب ہے

ظالم کے ہر طرف ہیں طرفدار گھومتے 

مظلوم ہیں بے یارو مددگار گھومتے

ایوان میں کتابیں اچھالی گئیں یہاں 

کوئی تو یہ بتا دے کہ انصاف ہے کہاں 

تعلیم یافتہ ہیں، سبھی بے لگام یہ؟

اونچا کریں گے دیس کا دنیا مِیں نام یہ؟

کچھ قومِ لوط کے بھی یہاں پیروکار ہیں 

ابلیس نا مراد کے سچے یہ یار ہیں 

شیطان قہقہے ہے لگاتا زمین پر

دست و گریباں بد زباں انسان دیکھ کر

اب خیر و برکتیں بھی نہیں سرزمین پر

دھبہ لگا رہے ہیں یہاں لوگ دِین پر 

کُتے سماں یہ دیکھ کے حیرت میں پڑ گئے

انسان کا یہ حال جو دیکھا تو ڈر گئے

ناپاک لوگ، پاک وطن میں ہیں آ گئے 

بن کر تباہی پاک زمیں پر ہیں چھا گئے

کاجل خدا کے خوف سے محروم چند لوگ

پھیلا رہے ہیں دیس میں ہر سمت گند لوگ


سمیرا سلیم کاجل

No comments:

Post a Comment