میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں میں
کوئی رہتا ہے ہے اس کی آنکھوں میں
سب کی آنکھوں سے حل نہیں ہوتا
کیا معمہ ہے اس کی آنکھوں میں
میں کنارے سے دیکھ سکتا ہوں
کوئی دریا ہے اس کی آنکھوں میں
لوگ مرتے ہیں اس کی آنکھوں پر
کچھ تو ایسا ہے اس کی آنکھوں میں
وہ سمندر مثال ہے، تب ہی
چاند ڈوبا ہے اس کی آنکھوں میں
حسن آدھا ہے مسکراہٹ میں
اور، پورا ہے اس کی آنکھوں میں
رات، زلفوں میں ڈوب جاتی ہے
دن نکلتا ہے اس کی آنکھوں میں
یہ مبشر بھی دھیان جینے کا
بھول آیاہے اس کی آنکھوں میں
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment