ستارہ ہے نہ دِیا ہے فلک کی اُس جانب
کوئی خلا سا خلا ہے فلک کی اس جانب
زمیں کا حالِ زبوں روز دیکھتا ہو گا
براجمان خدا ہے فلک کی اس جانب
فرشتے اس پہ برابر نظر رکھے ہوئے ہیں
جو شخص دیکھ رہا ہے فلک کی اس جانب
سمجھ کے صورِ سرافیل ڈر گئے ہیں لوگ
ذرا سا شور مچا ہے فلک کی اس جانب
پلٹ کے آیا تو لے جائے گا ہمیں بھی ساتھ
جو شہ سوار چلا ہے فلک کی اس جانب
سو عنبرین! کریں ملتوی وہاں کا سفر
اگر یہ پیار خطا ہے فلک کی اس جانب
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment