ہجر کی رُت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے
دل خسارے سے ثمر بار بھی ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے فقط دشت میں وحشت ہو میاں
یہ تماشا سرِ بازار بھی ہو سکتا ہے
دُکھ، پرندوں کی طرح شور مچا سکتے ہیں
ہجر، پیڑوں پہ نمودار بھی ہو سکتا ہے
میری ہر رات کو فردوس بنانے والے
دل، تِرے خواب سے بیدار بھی ہو سکتا ہے
یہ ضروری تو نہیں سامنے کھل کر آئے
میرا دشمن پسِ دیوار بھی ہو سکتا ہے
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment