دیارِ غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے
مگر تھے کون اپنے جن کے دعوؤں سے پگھل جاتے
ستم گر کی حقیقت کو بتانا کام تھا میرا
یہ تم پر منحصر ہے تم مُکر جاتے سنبھل جاتے
ہمارے دل میں جو طوفان دبائے ہم ہی بیٹھے ہیں
اگر ان کا پتا دیتے ہزاروں دل دہل جاتے
ارے ظالم کیوں ان معصوم کلیوں کو اجاڑا ہے
ہم ہی حاضر دوبارا ہیں ہمارا دل مسل جاتے
بھری دنیا میں کوئی بھی ہمیں اپنا نہیں ملتا
بتاؤ کس کے وعدوں پر دوبارا پھر بہل جاتے
بھلے شاہینوں کو تم اپنی سالاری سدا سونپوں
گواہ تاریخ ہے تم اپنی فطرت سے بدل جاتے
سیما عباسی
No comments:
Post a Comment