Monday, 19 July 2021

کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے

 کبھی تو بنتے ہوئے اور کبھی بگڑتے ہوئے

یہ کس کے عکس ہیں تنہائیوں میں پڑتے ہوئے

عجیب دشت ہے اس میں نہ کوئی پھول نہ خار

کہاں پہ آ گیا میں تتلیاں پکڑتے ہوئے

مِری فضائیں ہیں اب تک غبار آلودہ

بکھر گیا تھا وہ کتنا مجھے جکڑتے ہوئے

جو شام ہوتی ہے ہر روز ہار جاتا ہوں

میں اپنے جسم کی پرچھائیوں سے لڑتے ہوئے


امیر امام

No comments:

Post a Comment