جدا جب اس سے ہوتی ہے
مِری تنہائی روتی ہے
وہ کانٹا بن کے اُگتا ہے
طلب جو پُھول بوتی ہے
کسی کی یاد پہلو میں
اَنی غم کی چبھوتی ہے
جسے محبوب مل جائے
وہ قسمت اور ہوتی ہے
کسی کا بوجھ یہ دنیا
کہاں کاندھے پہ ڈھوتی ہے
محبت کے سمندر میں
وفا انمول موتی ہے
سحر کا حال مت پوچھو
نہ ہنستی ہے نہ روتی ہے
سحر علی
No comments:
Post a Comment