Sunday, 6 February 2022

کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے

 کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے

آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے

جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا

میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اسی حیرانی سے

آگ اور تیز ہوا دل کو لُبھاتے ہیں، مگر

گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے

باغ میں وقت بِتانے سے یہ ہوتا ہے کہ دل

جھومنے لگتا ہے نغموں کی فراوانی سے

جہاں رہتے ہیں مِرے جان سے پیارے مرشد

پیار کرتا ہوں اُسی خطۂ بارانی سے

بات دنیا کو عقیدت سے بتاؤ کہ سعید

چین ملتا ہے محمدﷺ کی ثنا خوانی سے


مبشر سعید

No comments:

Post a Comment