اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں
گزرے گا ایک اور برس انتظار میں
یہ آگ عشق کی ہے بجھانے سے کیا بجھے
دل تیرے بس میں ہے نہ مِرے اختیار میں
ہے ٹوٹے دل میں تیری محبت، تیرا خیال
خوش رنگ ہے بہار جو گزری بہار میں
آنسو نہیں ہے آنکھوں میں لیکن تِرے بغیر
وہ کانپتے ہوئے ہیں دلِ بے قرار میں
پیام سعیدی
No comments:
Post a Comment