Monday, 8 November 2021

اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں

 اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں

گزرے گا ایک اور برس انتظار میں

یہ آگ عشق کی ہے بجھانے سے کیا بجھے

دل تیرے بس میں ہے نہ مِرے اختیار میں

ہے ٹوٹے دل میں تیری محبت، تیرا خیال

خوش رنگ ہے بہار جو گزری بہار میں

آنسو نہیں ہے آنکھوں میں لیکن تِرے بغیر

وہ کانپتے ہوئے ہیں دلِ بے قرار میں


پیام سعیدی

No comments:

Post a Comment