Monday, 8 November 2021

غلیظ بدکار بے رحم شہر

 شہر


شہر تو اپنے گندے پاؤں پسارے 

دریا کے کنارے لیٹا ہے

اور تیرے سینے پر رینگتی ہوئی چیونٹیاں 

سورج کو گھور رہی ہیں

جب نصف درجن غیر ملکی حکیموں نے 

مشترکہ طور پر اعلان کیا؛

مرض سنگین ہے 

اور یہ بہت جلد ہی مر جائے گا

تو کسی چیچک زدہ بچے کی طرح 

تُو نے انہیں دیکھا اور خاموش ہو رہا

غلیظ بدکار بے رحم شہر 

لوگ کہتے ہیں تُو بدکار ہے

اور میں نے خود دیکھا ہے

سرِ شام

تیرے رنگے چہرے والی عورتیں 

لڑکھڑاتے نوجوانوں کو نگل جاتی ہیں

بے رحم

جب رات گئے تیرے دانشور 

رکشا کیے خودکشی کرنے جاتے ہیں

تُو خاموش رہتا ہے

شہر میں تیری دیوانہ کن خواہشوں سے بیزار ہوں

شہر تُو اپنے گندے لباس کب اتارے گا؟

شہر لوگ کہتے ہیں 

مرنے کے بعد میری ہڈی سے بٹن بنائیں گے

شہر تیری دیواروں پر یہ کیسی تحریریں ہیں

شہر میں نے مہینوں سے اخبار نہیں پڑھا

شہر تُو چائے میں شکر ڈالنا بھول گیا ہے

اور یہ تیرے آنسوؤں کی طرح لگ رہی ہے

شہر مجھے نیند آ رہی ہے تھپک کر سلا دے


عین رشید

No comments:

Post a Comment