Monday, 8 November 2021

دل کے اس بند دروازے کے پیچھے کیا کچھ نہیں تھا

آخری دروازے کے پیچھے


اک سوچ جو برسوں سے بے چین رکھتی ہے

ایک سوال

اس آخری دروازے کے پیچھے کیا تھا

جسے کھولنے کی ہمت آج تک میں کر نہیں سکی

کئی موسم گزار دئیے

کئی شامیں آئیں اور چلی گئیں

دل کی ویرانی ہے کہ بڑھتی ہی گئی

کل رات اک آواز نے مجھے جگایا

اک بار اس دروازے کی طرف تو دیکھو

میں اس سے آگے کچھ کہہ نہیں سکتی

میں اذیت میں ہوں

دل کے اس بند دروازے کے پیچھے 

کیا کچھ نہیں تھا

اعتبار تھا

انتظار تھا، محبت تھی

جو میری راہ تکتے تکتے مر چکی ہے


عروسہ انس

No comments:

Post a Comment