آخری دروازے کے پیچھے
اک سوچ جو برسوں سے بے چین رکھتی ہے
ایک سوال
اس آخری دروازے کے پیچھے کیا تھا
جسے کھولنے کی ہمت آج تک میں کر نہیں سکی
کئی موسم گزار دئیے
کئی شامیں آئیں اور چلی گئیں
دل کی ویرانی ہے کہ بڑھتی ہی گئی
کل رات اک آواز نے مجھے جگایا
اک بار اس دروازے کی طرف تو دیکھو
میں اس سے آگے کچھ کہہ نہیں سکتی
میں اذیت میں ہوں
دل کے اس بند دروازے کے پیچھے
کیا کچھ نہیں تھا
اعتبار تھا
انتظار تھا، محبت تھی
جو میری راہ تکتے تکتے مر چکی ہے
عروسہ انس
No comments:
Post a Comment