Monday, 8 November 2021

جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے

 جام کھنکے تو سنبھالا نہ گیا دل تم سے

ہے ابھی دور بہت ضبط کی منزل تم سے

ہم تو دریا میں بہت دور نکل آئے ہیں

لوٹ جاؤ ابھی نزدیک ہے ساحل تم سے

جستجو سرحدِ ادراک سے آگے نہ بڑھی

دو قدم طے نہ ہوا مرحلۂ دل تم سے

خلوتِ شوق کے در بند کئے لیتا ہوں

اب شکایت نہ کرے گی کوئی محفل تم سے

سخت جانی مِری آسودۂ خنجر تو نہ تھی

کیوں نکالا گیا حوصلۂ دل تم سے

تم تو نغموں کی فصیلوں پہ بہت نازاں تھے

کیوں دبایا نہ گیا شورِ سلاسل تم سے

دھڑکنوں کو نظر انداز کیے جاتے ہو

پھر نہ کہنا کہ مخاطب نہ ہوا دل تم سے


اعزاز افضل

No comments:

Post a Comment